فهرس الكتاب

الصفحة 87 من 119

لیے اس کی مقدار مقرر شدہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا: (فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ) (اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے) ۔]

ج: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''میں مکہ مکرمہ میں اس قدر [شدید] بیمار ہوا، کہ موت کے قریب پہنچ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا:

''یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِيْ مَالًا کَثِیْرًا، وَلَیْسَ یَرِثُنِيْ إِلَّا ابْنَتِيْ، أَفَأَ تَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِيْ؟۔''

[''یارسول اللہ! ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ بلاشبہ میرے پاس بہت مال ہے اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کردوں؟'']

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''لَا۔''

''نہیں''

انہوں نے بیان کیا: ''میں نے عرض کیا: ''فَالشَّطْرُ؟۔''

''تو آدھا؟''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''لَا۔''

''نہیں''

میں نے عرض کیا: ''ا ؟۔''

''ایک تہائی؟''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''اَلثُلُثُ کَبِیْرٌ، إِنَّکَ إِنْ تَرَکْتَ وَلَدَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ أَنْ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت