نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے دوران یہ اعتراف ہوتا ہے:
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسَْتَعِیْنُ علیہم السلام }
'' اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں ۔''
اگر مشکل پڑتے ہی غیرُ اللہ کی طرف منہ پھیرلیا تو اس وعدے کا کیا ہوگا ؟ فَلْیَتَدَبَّرْ
سورۃ یونس، آیت نمبر:۱۰۶ میں ارشاد ِ الٰہی ہے:
{وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظَّالِمِیْنَ علیہم السلام }
''اے نبی! آپ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کو مت پکاریں جو آپ کو نہ فائدہ پہنچاسکتی ہے اور نہ ہی نقصان ،پھر اگر [بالفرض] آپ ایسا کریں گے تو ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔''
سورۂ اعراف، آیت نمبر: ۵۵ میں فرمان ِ الٰہی ہے:
{اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً}
'' تم اپنے پروردگار کو گِڑگڑاتے ہوئے اور چُپکے چُپکے پکارو ۔''
بخاری شریف میں ارشاد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( مَنْ مَاتَ وَہُوَ یَدْعُوْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ ) ) [1]
'' وہ شخص [جہنم کی] آگ میں داخل ہوگیا جو اس حالت میں مرگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی [دوسرے] شریک کو [اپنی مشکل کشائی و حاجت روائی میں ] پکارتا تھا ۔''