الغرض عبادات کے جتنے بھی انداز ہیں ، انہیں کسی غیرُ اللہ کے لیٔے اختیار کرنا ، صحت ِ عقیدہ اور توحید ِ باری تعالیٰ کے منافی ہے ،ہمیں اپنے عقائد کی اصلاح کرنا چاہیئے تاکہ آخرت کی زندگی میں اپنی عبادات کا ثمر پاسکیں ۔اللہ تعالیٰ کو نفع و نقصان کا مالک بھی سمجھیں ،اور معبود ِ واحد بھی قرار دیں ،اور ساتھ ہی ساتھ شجر و حجر اور مزار و قبر سے بھی امیدیں وابستہ رکھیں تو پھر علّامہ اقبال ؒ کے ان الفاظ کے سوا اور کیاکہا جاسکتا ہے؟
ع بُتوں سے تجھے اُمیدیں خدا سے نا اُمیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے ؟
بدنی عبادات میں سے ہی ایک عبادت سجدہ کرنا بھی ہے ، اور سجدے کا عبادت ہونا صرف سابق میں ذکر کی گئی سورۃ العلق کی آیت:۱۹: {وَاسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ} کی رُو سے ہی عبادت نہیں بلکہ اسکا عبادت ہونا توخودبریلوی مکتب ِ فکر کے بانی وسرخیل عالم مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی کے ارشادات و تعلیمات میں بھی مذکور ہے ، چنانچہ قبروں اور مزاروں پر سجدے کرنے والوں کی ضیافت ِ طبع اور لمحۂ فکریہ کے لیٔے فاضل بریلوی کی تصریحات پیش ِ خدمت ہیں:
موصوف اپنی کتاب ''الزبدۃ الزکیۃ في سجدۃ التحیۃ '' ص: ۵۸ پر لکھتے ہیں:
''بے شک سجدہ افعال ِ عبادت سے ہے ،سجدئہ عبادت اور سجدئہ تحیّت میں سوائے نیّت کوئی فرق نہیں ، سجدہ تو سجدہ ہے ۔زمین بوسی کی نسبت درّ مختار [ص: ۶۹۹ ] کے حوالہ سے گزارا کہ ( یُشْبِہُ عِبَادَۃَ الْوَثَنِ) ''یہ بت پرستی کے مشابہ ہے ۔''
اُن کے اِن الفاظ سے غیرُ اللہ کو سجدہ کرنا اور زمین بوسی کرناشرک و بت پرستی ثابت ہوا، جبکہ اس کی مزید وضاحت اور تعظیمی سجدہ کے حرام و گناہ ِ کبیرہ ہونے کا ثبوت موصوف کی اِسی مذکورہ کتاب کے صفحہ: ۸ پر مذکور ان الفاظ میں موجود ہے: