فهرس الكتاب

الصفحة 22 من 103

کیونکہ سورۂ شوریٰ آیت:۱۱ میں ارشاد ِ الٰہی ہے:

{ لَیْسَں کَمِثْلِہٖ شَيْئٌ وَہُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ علیہم السلام }

'' کائنات کی کوئی چیز اللہ کے مشابہ نہیں ، وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔''

2توحیدِ ِ ربوبیّت :

توحید کی دوسری قسم ''توحید ِ ربوبیّت'' ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ارض و سماء اور پوری کائنات کا خالق ومالک اور رازق تسلیم کیا جائے ،جس کا اقرار ہم سورۃ فاتحہ کے شروع میں یہ کہہ کر کرتے ہیں:

{ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ علیہم السلام }

'' ہر قسم کی تعریف ذات ِ الٰہی کے لیٔے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار [پالنے والا] ہے ۔''

بخاری و مسلم شریف میں نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ِ صدق ترجمان سے بھی توحید ِ ربوبیّت کا اقرار موجود ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ) )

''اے اللہ ! تو ہی ارض و سماء [اور ان میں موجود تمام کائنات ] کا رب [پروردگار] ہے ۔''

اس توحید ِ ربوبیّت کا اقرا ر تو کفّار و مشرکین بھی کیا کرتے تھے ،جیسا کہ سورۂ یونس کی آیت: ۳۱ میں ارشاد ِ الٰہی ہے:

{ قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمآئِ وَاْلأَْرْضِ،أَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَ الْأَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُوْنَ علیہم السلام }

'' اے نبی ! ان سے پوچھیں ،تمہیں آسمان اور زمین سے رزق کون دیتا ہے ؟ یہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت