وَ کَرَمِکَ …الخ )) [1]
''جہنّم میں لوگ ڈالے جاتے رہیں گے ، اور وہ کچھ اور،کچھ مزید کی رَٹ لگائے جائے گی یہاں تک کہ اللہ رب العزّت اپنا پاؤں اُس میں رکھ دے گا ، جس سے وہ سُکڑ جائے گی اور کہے گی:بس ، بس، تیری عزّت و کرم کی قسم۔۔۔'' ۔
یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ ہیں جن میں قدم آیا ہے جبکہ ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں [قدم] کی بجائے [رِجْل] کا لفظ آیا ہے۔ اور یہ لفظ بھی پاؤں کے لیٔے استعمال ہوتا ہے ،اگرچہ یہ ٹانگ کیلئے بھی بولا جاتا ہے ۔
غرض ان تمام اسماء و صفات ِ الٰہیہ پر مُجمل ایمان لا نا فرض ہے کہ یہ سب اس کی صفات ہیں ۔ اور جیسے اس کی جلالت کے لائق ہیں ،ویسی ہی ہیں ،اور ان اسماء و صفات میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرنا کُفر ہے ۔ [2]
رہی یہ بات کہ استواء و نزول ، سمع و بصر اور ید و قدم وغیر ہ صفات ِ الٰہیہ کی ہیئت و کیفیّت بیان کی جائے ۔ اور مخلوقات میں سے کسی چیز کے ساتھ ان کی مثال دی جاے تویہ ناجائز و ممنوع ہے۔ حضرت امام مالک ؒ سے کسی نے استواء کی کیفیت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا:
(اَ لْاِسْتِوَائُ مَعْلُوْمٌ وَ الْکَیْفُ مَجْہُوْلٌ [وَالسُّؤَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٌ] )
''استواء تو معلوم ہے مگر اس کی کیفیت مجہول ہے [اور کیفیت کی کرید میں لگنا بدعت ہے ] '' [3]
[2] کتاب التوحیدشیخ محمد بن عبدالوہاب، ص: ۳۱۵
[3] شرح العقیدہ الطحاویہ بتخریج الالبانی ص: ۳۱۳