صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ِ مبارک سے صادر ہونے والی صحیح احادیث میں اپنی ذات ِ گرامی کی جو صفاتِ با برکات اور جو اسمائے حُسنیٰ بیان فرمائے ہیں ،انہیں حقیقی طور پر تسلیم کیا جائے ۔ ان میں کسی قسم کا ردّ و بدل یا تأویل نہ کی جائے ،نہ اُن اسماء و صفات سے انکار کیا جائے ،نہ ان صفات کو معطّل قرار دیا جائے، اور نہ ہی مخلوقات ِ الٰہی میں سے کسی چیز کے ساتھ صفات ِ الٰہی کی تمثیل بیان کی جائے ،مثلًا سورۂ طٰہٰ ،آیت: ۵ میں ہے:
{ الرَّحْمٰنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوٰی علیہم السلام } '' اللہ تعالیٰ عرش پر جلوہ فرما ہے ۔''
بخاری و مسلم شریف اور کتبِ سنن میں ارشاد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( یَنْزِلُ اللّٰہُ فِيْ کُلِّ لَیْلَۃٍ اِلٰی سَمَائِ الدُّنْیَا ) ) [1]
''اللہ تعالیٰ ہر رات [کے آخری حصّہ میں ] آسمان ِ دنیا پر نازل ہوتا ہے ۔''
اس آیتِ کریمہ اور حدیث ِشریف میں اللہ تعالیٰ کی صفات ،استواء اور نزول کا ذکر ہے ۔
ایسے ہی قرآنِ کریم میں سمع و بصر وغیرہ اور احادیث میں ید [ہاتھ] اور قدم وغیرہ صفات مذکور ہیں ، چنانچہ یَد [ہاتھ] کا ذکر ترمذی و نسائی کی اس حدیث شریف میں ہے جسمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(( یَدُ اللّٰہِ مَعَ الجَمَاعَۃِ ) )''اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے ۔'' [2]
اور قدم کا ذکر بخاری و مسلم اور ترمذی کی اس حدیث میں ہے جسمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(( لاَ تَزَالُ جَہَنَّمُ یُلْقٰی فِیْہَا وَ تَقُوْلُ: ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ حَتّٰی یَضَعَ رَبُّ الْعِزَّۃِ فِیْہَا قَدَمَہٗ فَیَنْزَوِیْ بَعْضُہَا اِلٰی بَعْضٍ وَتَقُوْلُ: قَطْ قَطْ بِعِزَّتِکَ
[2] صحیح ترمذی: ۱۷۶۰ ، صحیح نسائی: ۳۷۵۳