گِنوائے ۔ (16)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ِ گرامی سے معلوم ہوا کہ شرک سب سے بڑا ہلاکت انگیز جرم اور بلا خیز گناہ ِ کبیرہ ہے ۔ بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر فرمایا:
(( أَلَا أُنْبِئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ) ) [1]
'' کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے بھی سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں آگاہ نہ کروں ؟ '' ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی ،تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:کیوں نہیں ۔
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار گناہوں میں سے سب سے پہلے جس کا نام لیا ،وہ تھا:
(( اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ۔۔۔ ) )''اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا '' ۔
اِس کے بعد والدین کی نافرمانی کرنا ،جھوٹی گواہی دینا اور جھوٹ بولنا ذکر فرمائے ۔ [2]
صحیح مسلم و مسند احمد اور صحیح ابن خذیمہ میں ارشاد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( ثِنْتَانِ مُوْجِبَتَانِ۔۔۔ ) )'' دو چیزیں واجب کردینے والی ہیں ۔''
ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(( مَنْ مَاتَ یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ النَّارَ، وَمَنْ مَاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ) ) [3]
'' جو آدمی اس حالت میں مرگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ[اس کی ذات و صفات یا
[2] بخاری: ۲۷۶۶ ، مختصر مسلم:۴۷ ومع النووی۱؍۲؍۸۱، صحیح ابی داؤد: ۲۴۹۸ ، صحیح النسائی حدیث: ۳۴۳۲، صحیح الجامع: ۱۴۴،نقلہٗ الہیتمی فی الزواجر ۱؍۲۷ والذہبی فی الکبائر ص: ۸
[3] مختصر مسلم للالبانی:۵۲، صحیح الجامع:۶۵۵۱