جاکراُس سے کچھ پوچھا اور پھر اُس کی تصدیق بھی کی ،اُسکی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوگی'' ۔ [1]
جبکہ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ اور مسند احمدمیں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( مَنْ أَتَیٰ کَاھِنًا فَصَدَّقَہٗ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْکَفَرَ بِمَاأُنْزِلَ عَلَیٰ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ) )
''جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا اور اس کی بات پر یقین بھی کیا ،اُس نے شریعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم [قرآن و سنّت ] کا انکار کیا ۔'' [2]
مسندبزاراور معجم طبرانی اوسط میں بسندِ صحیح ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( لَیْسَ مِنَّا مَنْ ۔۔۔۔۔۔تَکَھَّنَ أَوْ تُکُہِّنَ لَہٗ ) )
''جو کوئی کاہن بنے یا کاہن کے پاس جاکر کچھ پوچھے ، …وہ ہم میں سے نہیں ۔'' [3]
ابوداؤد،نسائی اور ابن حبان میں علمِ نجوم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جادُو کی قسم قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے:
(( مَنِ اقْتَبَسَ شُعْبَۃً مِّنَ النُّجُوْمِ فَقَدِ اقْتَبَسَ شُعْبَۃً مِّنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ ) ) [4]
''جس شخص نے عِلم نجوم کا کچھ حصہ حاصل کیا اُس نے گویا اتنا جادُو سیکھ لیا ، اور جس قدر سیکھتا جائے گا ، اتنا ہی اُسکے گناہ میں اضافہ ہوتا جائیگا۔''
[2] صحیح ابی داؤد۳۳۰۵ ، صحیح الترمذی ۱۱۶ ، ابن ماجہ ۶۳۹ ،مسند احمد ۲؍۴۰۸ ، صحیح الجامع ۵۹۴۲ ۔ ۸۱ فتح المجید ص ۶۵۴ ۔
[3] تخریج کیلئے ملاحظہ فرمائیں صحیح الجامع:۵۴۳۵ والصحیحہ:۲۱۹۵
[4] تخریج کیلئے دیکھیئے حاشیہ:۶۲،تطہیر المجتمعات اردو،ص ۱۳۷ حاشیہ ، مزید تفصیل کے لیٔے دیکھیٔے: فتح المجیدباب التنجیم ص ۶۷۴ تا ۶۷۸ ، الزّواجرللہیتمی ۲؍ ۱۱۰