گویا دیکھنے والے آدمی کی خاطر نماز کو ادا کرنے میں زیادہ اہتمام کرنا ریاء کاری اور شرک ِ خفی ہے ۔ ایسے ہی مسند احمد وغیرہ میں ارشاد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( اِنَّ أَخْوَفَ ماَ أَخَافُ عَلََیْکُمْ اَلشِّرْکُ الْأَصْغَرُ ) )
''مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ،وہ شرک ِ اصغر ہے '' ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: شرک ِ اصغرکیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَلرِّیَـائُ ) ) [1] ''یعنی دِکھلاوا ۔''
مسند احمد اور طبرانی میں تو بڑے واضح انداز میں ارشاد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ أَشْرَکَ وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ أَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ أَشْرَکَ ) ) [2]
''جس شخص نے ریاء کاری کے لیٔے نماز پڑھی اس نے شرک کیا ، جس نے ریاء کاری و دکھلاوے کے لیٔے روزہ رکھااس نے شرک کیااور جس نے دکھلاوے کے لیٔے صدقہ کیااس نے شرک کیا ۔''
جبکہ بخاری و مسلم میں ارشاد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖ [یَوْمَ الْقِیَامَۃِ] وَمَنْ یُّرَائِیْ یُرَائِی اللّٰہُ بِہٖ ) ) [3]
'' جس شخص نے کوئی عمل اس نیّت سے کیا کہ لوگوں میں اس کی شہرت و تعریف ہو ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے اس کی بد نیتی ظاہر کرکے اُسے
[2] مسند احمد: ۴؍۱۲۶، مستدرک حاکم:۴؍۳۲۹، طبرانی:۷؍۳۳۷، ۳۳۸، مشکوٰۃ: ۵۳۳۱، الترغیب للمنذری: ۱؍۴۴، مختصر الترغیب لابنِ حجر: ۷ ۔
[3] بخاری، حدیث: ۶۴۹۹ ، مختصرمسلم للمنذری: ۲۰۹۰، مشکوٰۃ ،حدیث: ۵۳۱۶ ۔ ۵۳۲۷ ۔