فهرس الكتاب

الصفحة 50 من 110

یہی جو پھرتے ہیں بے علم جاہل

ہزاروں انہی میں تھے پوشیدہ کامل

اگر فکرِ کسب و ہنر تم کو بھی ہو

تمھی بونصر تمھی بو علی ہو

نہ ہوتے اگر مائلِ لہو بازی

ہزاروں انہی میں تھے طوسی و رازی

طبیعت کو بچپن سے محنت میں ڈالا

ہوئے اس لیے صاحبِ قدر والا

نہ تھا بوعلی کچھ جہاں سے نرالا

نہ بونصر تھا نوع میں ہم سے بالا

نیز مفکرِ ملت علامہ اقبال مرحوم لکھتے ہیں:

بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا

روشن شرر تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد

خونِ رگِ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر

مے خانۂ حافظ ہو کہ بت خانۂ بہزاد

آج یہی محنت پیہم طلبہ میں نایاب ہے،جس کی وجہ سے ان کے اندر کوئی جوہر پیدا نہیں ہوتا۔وہ امام رازی،غزالی اور علامہ مجدالدین فیروز آبادی جیسی قابلیت و صلاحیت کے مالک نہیں ہوتے۔اب تو بزبانِ شاعر ان کی حالت یہ ہے:

صبح آرام سے گزرتی ہے

شب دلآرام سے گزرتی ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت