(( کُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا فِي غَیْرِ إِسْرَافٍ وَّلَا مَخِیلَۃٍ ) )
''کھاؤ،پیو،پہنو اور خیرات کرولیکن اسراف اور بڑائی کے بغیر۔'' [1]
اسی طرح آپ نے جائز وناجائز اور مستحسن ومکروہ لباس کی پوری وضاحت فرما دی ہے۔بنا بریں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ درج ذیل آداب کا التزام کرے۔
1: مرد ریشمی لباس کا استعمال کسی طرح بھی نہ کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
'لَا تَلْبَسُوا الْحَرِیرَ،فَإِنَّہُ مَنْ لَّبِسَہُ فِي الدُّنْیَا لَمْ یَلْبَسْہُ فِي الْآخِرَۃِ' ''ریشم نہ پہنو،جو اسے دنیا میں پہنتا ہے،وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا۔'' [2]
ایک دن آپ نے ریشم اپنے دائیں ہاتھ میں اور سونا بائیں ہاتھ میں لیا اوریوں فرمایا:
'إِنَّ ھٰذَیْنِ حَرَامٌ عَلٰی ذُکُورِ أُمَّتِي' ''یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔'' [3]
نیز یہ بھی فرمایا:'حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِیرِ وَالذَّھَبِ عَلٰی ذُکُورِ أُمَّتِي وَأُحِلَّ لإِِنَاثِھِمْ'
''ریشمی لباس اور سونا میری امت کے مردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہے۔'' [4]
2: شلوار،قمیص،کوٹ اور چادر وغیرہ اتنے لمبے نہیں ہونے چاہئیں کہ ٹخنوں سے نیچے تجاوز کر جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(( مَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الإِْزَارِ فَفِي النَّارِ ) )''تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا جہنم میں (لے جانے کا باعث) ہو گا۔'' [5]
نیز فرمایا: (( اَلإِْسْبَالُ فِي الإِْزَارِ وَالْقَمِیصِ وَالْعِمَامَۃِ،مَنْ جَرَّمِنْھَا شَیْئًا خُیَلَائَ لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) )
''تہبند،قمیص،اور پگڑی میں ''اسبال'' (نیچے گھسٹنے کا احتمال) ہے۔جو انھیں تکبر کے طور پر گھسیٹے گا،اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھیں گے۔'' [6]
مزید فرمایا: (( لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلٰی مَنْ جَرَّ ثَوْبَہُ خُیَلَائَ ) )''جو تکبر کے طور پر اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔'' [7]
[2] صحیح البخاري، اللباس، باب لبس الحریر للرجال وقدرما یجوز منہ، حدیث: 5834، وصحیح مسلم، اللباس والزینۃ، باب تحریم لبس الحریر وغیر ذٰلک للرجال، حدیث: 2069 واللفظ لہ۔
[3] [صحیح ] سنن أبي داود، اللباس، باب في الحریر للنسآء، حدیث: 4057۔
[4] [صحیح] جامع الترمذي، اللباس، باب ماجاء في الحریر والذھب للرجال، حدیث: 1720، وقال:حسن صحیح، حدیث سابق اس کی شاہد ہے۔
[5] صحیح البخاري، اللباس، باب ماأسفل من الکعبین فھو في النار، حدیث: 5787۔
[6] [حسن] سنن أبي داود، اللباس، باب في قدر موضع الإزار، حدیث: 4094۔
[7] صحیح البخاري، اللباس، باب قول اللّٰہ تعالٰی: { قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّٰهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ } ، حدیث: 5783 7 ، تحریم جرالثوب خیلاء:، حدیث: 2085۔