اور رات کے وقت اپنے گھر نہیں آنا چاہیے۔ [1]
(:عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کر ے۔حدیث نبوی ہے:
'لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ' ''کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔'' [2]
مسلمان کا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لباس پہننے کا حکم دیا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
{يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ} ''اے اولادِ آدم!ہر مسجد (نماز) کے پاس اپنی زینت اپناؤ (لباس پہنو) اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔'' [3]
اور لباس کو احسان جتلاتے ہوئے یہ فرمایا: {يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ}
''اے اولادِ آدم!ہم نے تم پر لباس نازل کیاتا کہ تمھارا ستر ڈھانکے اور (تمھارے بدنوں کے لیے باعثِ) زینت بھی ہو اور تقویٰ کا لباس بہتر ہے۔'' [4]
نیز ارشادِ عالی ہے: {وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ} ''اور (اللہ نے) تمھارے لیے قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے محفوظ رکھتی ہیں اور ایسی قمیصیں (بھی بنائیں) جو تمھیں تمھاری جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھتی ہیں۔'' [5]
فرمانِ الٰہی ہے: {وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ}
''اور ہم نے اسے تمھارے لیے لباس بنانے کا طریقہ سکھایا تاکہ تمھیں جنگ میں (دشمن کے وار سے) بچائے،پھر کیا تم شکر ادا کرتے ہو؟'' [6]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لباس پہننے کا حکم دیا ہے۔ارشادِ نبوی ہے:
[2] صحیح البخاري، الحج، باب حج النساء، حدیث: 1862۔
[3] الأعراف 31:7۔
[4] الأعراف 26:7۔
[5] النحل 81:16۔
[6] الأنبیآء 80:21۔