فهرس الكتاب

الصفحة 378 من 720

میں ڈالے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

(( مَنْ عَلَّقَ تَمِیمَۃً فَقَدْ أَشْرَکَ ) )''جس نے ''تمیمہ'' (منکا وغیرہ) گلے میں ڈالا،اس نے شرک کیا۔'' [1]

نیز ارشاد ہے: (( مَنْ عَلَّقَ تَمِیمَۃً فَلَا أَ تَمَّ اللّٰہُ لَہُ،وَمَنْ عَلَّقَ وَدْعَۃً فَلَا وَدَعَ اللّٰہُ لَہُ ) )

''جو منکے گلے میں ڈالے،اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے اور جو کوئی کوڈ یا سیپیاں گلے میں ڈالے،اسے اللہ آرام نہ دے۔'' [2]

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیتل کا کڑا ہاتھ میں ڈالے ہوئے ہے۔آپ نے فرمایا:''افسوس یہ کیا ہے۔'' اس نے کہا:''کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔'' آپ نے فرمایا: (( اِنْزِعْھَا فَإِنَّھَا لَا تَزِیدُکَ إِلَّا وَھْنًا،وَإِنَّکَ لَوْ مِتَّ وَھِيَ عَلَیْکَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا ) )

''اسے اتار دے،یہ تیری کمزوری اور زیادہ کرے گا۔اگر تو اس حال میں مر گیا تو کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔'' [3]

5 وہ چیزیں جن کے ساتھ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفا طلب فرمائی:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بابرکت ہاتھ مریض پر رکھ کر کہتے: (( اَللَّھُمَّ!رَبَّ النَّاسِ أَذْھِبِ الْبَأْسَ،وَاشْفِہِ،وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَائُ کَ شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا ) )

''اے اللہ!انسانوں کے پالنے والے،تکلیف دور فرما،شفا دے تو ہی شافی ہے،تیرے سوا کسی کے پاس شفا نہیں ہے۔ایسی شفا دے جو بیماری کو نہ چھوڑے۔'' [4]

ایک شخص نے آپ کے سامنے درد کی شکایت کی تو آپ فرمایا:''جسم میں درد والی جگہ پر ہاتھ رکھ اور تین بار بسم اللہ کہہ اور سات بار یہ دعا پڑھ:

(( أَعُوذُ بِاللّٰہِ وَقُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّمَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ) )

[2] [حسن] مسند أحمد: 154/4، والمستدرک للحاکم: 216/4، امام حاکم اور امام ذہبی نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔

[3] [ضعیف] مسند أحمد: 445/4، وسنن ابن ماجہ، الطب، باب تعلیق التمائم، حدیث: 3531 وحسنہ البوصیري اس کی سند انقطاع وغیرہ کی وجہ سے ضعیف ہے

[4] صحیح البخاري، الطب، باب رقیۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 5743۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت