(( اَللَّھُمَّ!إِنِّي أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِي وَسِعَتْ کُلَّ شَيْئٍ أَنْ تَغْفِرَلِي ذُنُوبِي ) )
''اے اللہ!میں تجھ سے تیری رحمت جو ہر چیز پر وسیع ہے، (کے وسیلے) سے سوال کرتا ہوں کہ میرے گناہوں کی مغفرت فرما۔'' [1]
4:سحری کھانا لازم ہے،یعنی رات کے آخری حصے میں روزے کی نیت سے کھانا اور پینا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:'فَصْلُ مَا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ أَھْلِ الْکِتَابِ أَکْلَۃُ السَّحَرِ'''ہمارے اور اہل کتاب کے روزہ میں سحری کھانے ہی کا فرق ہے۔'' [2]
اور فرمایا:'تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَکَۃً' ''سحری کھاؤ اس لیے کہ سحری میں برکت ہے۔'' [3]
5: سحری رات کے آخری اوقات تک مؤخر کرنا بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَیْرٍ مَّا أَخَّرُوا السُّحُورَ وَعَجَّلُوا الْفِطْرَ ) )
''میری امت اس وقت تک بھلائی میں رہے گی جب تک وہ افطار جلدی اور سحری مؤخر کرے گی۔'' [4]
سحری کا وقت رات کے آخری نصف سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق سے چند منٹ قبل تک باقی رہتا ہے۔زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
(( تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثُمَّ قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ،فَقُلْتُ:کَمْ کَانَ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالسُّحُورِ؟ قَالَ:قَدْرُ خَمْسِینَ آیَۃً ) )
''ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی،پھر آپ نماز کے لیے اٹھے،میں نے دریافت کیا اذان اور سحری میں کتنا وقفہ تھا۔کہا:''پچاس آیات کریمہ کا اندازہ۔'' [5]
تنبیہ:صبح صادق ہونے میں شک ہو تو کھاپی سکتے ہیں لیکن جب صبح کا یقین ہو جائے تو رک جانا ضروری ہے۔
[2] صحیح مسلم، الصیام، باب فضل السحور:، حدیث: 1096۔
[3] صحیح البخاري، الصوم، باب برکۃ السحور:، حدیث: 1923، وصحیح مسلم،الصیام، باب فضل السحور:، حدیث: 1095۔
[4] [حسن] مسند أحمد: 172/5، یہ روایت اپنے شواہد کے ساتھ حسن ہے۔
[5] صحیح البخاري، الصوم، باب قدرکم بین السحور:، حدیث: 1921، وصحیح مسلم، الصیام، باب فضل السحور و تأکید استحبابہ:، حدیث: 1097۔