فهرس الكتاب

الصفحة 702 من 720

3: اپنے اور ان قرابت داروں کے متعلق جن کے لیے اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی،فیصلہ نہ کرے۔

4: فیصلے میں رشوت قبول نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي ) )

''رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔'' [1]

5: منصب قضا سے پہلے جن لوگوں سے اسے تحائف نہیں ملتے تھے،اب ان سے وصول نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(( مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلٰی عَمَلٍ فَرَزَقْنَاہُ رِزْقًا،فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ غُلُولٌ ) )''جسے ہم عامل بنائیں اور اسے تنخواہ دیں،اس کے علاوہ جو وہ لے گا خیانت ہو گی۔'' [2]

٭ قاضی کی ذمہ داریاں:

1: تمام دعوؤں اور جھگڑوں میں فریقین کے مابین فیصلہ کرے اور دلائل کے تضاد یا غیر واضح ہونے کی صورت میں فریقین کی رضامندی سے صلح کرائے۔

2: ظالموں اور بدکرداروں کو دبائے اور مظلوموں اور حق داروں کی مدد اور ان کی داد رسی کرے۔

3: خون اور زخموں میں ' 'حدود'' قائم کرے اور فیصلہ جات صادر کرے۔

4: نکاح،طلاق اور خرچہ جات کے بارے میں فیصلہ جات صادر کرے۔

5: یتیموں،دیوانوں،غیر حاضر اور ممنوع التصرف لوگوں (جنھیں مالی تصرف سے روک دیا گیا ہو) کے اموال کے تحفظ کے انتظامات کرائے۔

6: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے محکمے کا کنٹرول جس کے ذریعے اچھائی کا حکم جاری کیا جاتا ہے اور برائی سے روکا جاتا ہے۔

7: جمعہ اور عیدین کی امامت۔

٭ قاضی کس طرح فیصلہ کرے:

درج ذیل چار طریقوں سے قاضی لوگوں کے حقوق کا تحفظ اور فیصلہ صادر کرے گا:

1: اقرار:''مدعا علیہ'' ''مدعی'' کا مطالبہ تسلیم کر لے تو ''مدعی'' کا حق ثابت ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا ) )''اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دینا۔'' [3]

2: دلیل: (ثبوت دعویٰ) یعنی گواہوں کی گواہی سے دعویٰ ثابت ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

[2] [حسن] سنن أبي داود، الخراج، باب في أرزاق العمال، حدیث: 2943، اسے امام ابن خزیمہ،حاکم، ذہبی اور امام زبیدی نے صحیح کہا ہے۔

[3] صحیح البخاري، الحدود، باب الاعتراف بالزنا، حدیث: 6828,6827، و صحیح مسلم، الحدود، باب من اعترف علی نفسہبالزنٰی، حدیث: 1697۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت