فهرس الكتاب

الصفحة 165 من 212

مروجہ صکوک کامختصر جائزہ

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر صکوک کو اس طرح ڈیزائن کیاجائے کہ اس سے کسی شرعی ضابطے کی خلاف ورزی نہ ہوتو یہ جائز طریقے سے سرمایہ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں لیکن جب ہم مذکورہ بالااصول کی روشنی میں مروجہ صکوک کا جائزہ لیتے ہیں تو ان میں درج ذیل خرابیاں نظر آتی ہیں۔

1۔ حاملین صکوک صرف منافع یا کرایہ وصول پاتے ہیں،نقصان میں حصے دار نہیں ہوتے جو کہ خلاف شریعت ہے۔

2۔ لگائے گئے سرمائے پر فیصد کے حساب سے طے شدہ منافع دیاجاتا ہے جو کہ سود کے زمرہ میں آتا ہے۔

3۔ مدت کے اختتام پر اثاثہ جات کا تصفیہ نہیں کیاجاتا بلکہ جاری کنندہ اوپر لکھی ہوئی قیمت (Face Value) کے عوض دوبارہ خرید لیتا ہے۔یہ شراکت کے تصور کے منافی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت