ایک سکے کے ساتھ دو سکوں کا تبادلہ کرسکتے ہیں جیسا کہ پیچھے بیان ہوا ہے اس لیے مولانا احمد رضاخاں بریلوی دس روپے کے نوٹ کو بارہ روپے میں بیچنا جائز سمجھتے ہیں۔دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ نوٹ اصطلاحی زرہے اور اس معاملہ میں کسی دوسرے کو متعاقدین پر کوئی اختیار نہیں وہ دونوں جو کمی بیشی کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔چنانچہ ایک استفتاء کے جواب میں لکھتے ہیں۔
"يجوز بيعه بأزيد من رقمه وبأنقص منه كيفما تراضيا لما علمت أن تقديرها بهذه المقادير إنما حدث باصطلاح الناس وهما لا ولاية لغير عليهما كما تقدم عن الهداية والفتح فلهما أن يقدرا بما شاء من نقص وزيادة"
''نوٹ کو اس کی مالیت سے کم یا زائد جس قیمت پر بھی وہ متفق ہو جائیں بیچنا جائز ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ان کی یہ قیمت لوگوں کی اصطلاح کی بناپر ہے۔لہٰذا ان دونوں کو یہ اختیار ہے کہ جو کمی بیشی چاہیں کریں۔'' [1]
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دھاتی سکوں کے متعلق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے لیکن اس کو کرنسی نوٹوں پر منطبق کرنا کسی صورت درست نہیں۔اس کی وجودہ حسب ذیل ہیں۔
٭ کرنسی نوٹ قانونی زر ہیں۔حکومت کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کی قانونی حیثیت کالعدم قرار دے سکے۔
٭ دھاتی سکے ایسی دھات کے ہوتے ہیں جس کی کچھ نہ کچھ اپنی ذاتی افادیت بھی ہوتی ہے جبکہ نوٹوں کا لین دین زر سمجھ کر ہی کیا جاتا ہے اگر ان کے اندر سے یہ وصف نکال دیا جائے تو ان کی حیثیت ردی کاغذ کے برابر رہ جاتی ہے جس سے کسی کو خاص دلچسپی نہیں ہو سکتی۔