فهرس الكتاب

الصفحة 56 من 212

یہ بھی تھی کہ وہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے، حالانکہ یہ بڑے آسودہ حال تھے۔جب یہ لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت پر بھی باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ برسا کر ان کو مال ودولت سمیت تباہ کردیا۔یہ عذاب اس طرح آیا کہ پہلے سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کردی، اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا، چونکہ یہ لوگ سات دن کی سخت گرمی سے بلبلائے ہوئے تھے اس لیے سب سائے تلے جمع ہوگئے تاکہ ٹھنڈی ہواؤں کا لطف اُٹھائیں۔لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنا شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرز اٹھی اور ایک سخت چنگھاڑ نے انہیں ہمیشہ کےلیے موت کی نیند سلادیا۔قرآن حکیم نے اس واقعہ کی طرف ان الفاط سے اشارہ کیا ہے:

{فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ }

''انہوں نےاسے (شعیب علیہ السلام کو) جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔'' [1]

امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ"

''جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کردیا جاتا ہے۔'' [2]

چونکہ ناپ تول میں ڈنڈی مارنا ظلم ہے جس کی دین اسلام میں قطعًا گنجائش نہیں۔اس لیے احتیاط کاتقاضا یہی ہے کہ دیتے وقت ذرا جھکتا ہوا دیاجائے۔فرمان نبوی ہے:

"إِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا"

[2] ۔سنن ابن ماجه:باب العقوبات۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت