فهرس الكتاب
مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی بحالی کی خاطر جنگ کرنا ضروری ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ 190 } (۲/۱۹۰)
(اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں، تم بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ان سے لڑو۔ مگر زیادتی نہ کرنا کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔)
جب کوئی قوت اسلام کو مٹانے اور اسلامی نظام کو فنا کرنے کے لیے حملہ آور ہو تو تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجاتا ہے کہ وہ سب کام چھوڑ کر اس کے مقابلہ میں نکل آئیں۔
(۳) مظلوم مسلمانوں کی فریاد:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُهَاجِرُوْا ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ } (۸/۷۲)
(اور جولوگ ایمان لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں ہاں وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد چاہیں۔ تو ان کی مدد کرنا لازم ہے۔ )
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی جگہ مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہوں۔ اور وہ کسی مسلمان ملک سے امداد طلب کریں تو ان پر ان کی امداد کرنا اور جنگ کے ذریعہ ان کو آزادی دلوانا فرض ہوجاتا ہے۔
(۴) احکام شرعیہ کی تکمیل میں رکاوٹ:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّـۢا ڌ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا 75ۭ } (۴/۷۵)
(اور تمہیں کیا ہوگیاہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے نکال جس