فهرس الكتاب

الصفحة 71 من 279

(۱۳) جنگ اور تعلقات خارجہ

جنگ کا خارجہ پالیسی کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اس سلسلہ میں مسلمانوں کو مندرجہ ذیل ہدایات دی گئی ہیں-

(۱)دوسانہ تعلقات:

غیر مسلم اقوام سے صلح کے معاہدے تو کرنے کی اجازت ہے لیکن دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی اجازت نہیں- ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ} (۶۰:۱)

(اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو جو غیر مسلم ہیں دوست نہ بنا ؤ -)

اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:

(۱) کافر مسلمان کا حقیقی خیر خواہ کبھی نہیں بن سکتا- اس کی دوستی صرف اس وقت تک ہوگی جب تک اس کا اپنا مفاد وابستہ ہوگا- ذرا بھی مفادات میں فرق آیا تو وہ اسی وقت کفر کی دوسری طاقتوں سے مل جائے گا- ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ۭ} (۵۸:۲۲)

(تمہیں ایسی کوئی قوم نہ ملے گی جو اللہ اور قیامت پر ایمان بھی رکھے پھر ایسی قوم سے دوستی بھی رکھے جو اللہ اور رسول کی مخالفت کرتی ہو- چاہے وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا بھائی یا دوسرے رشتہ دار-)

(۲) غیر مسلم کی دوستی سے ملکی اور فوجی راز افشا ہونے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے- کیونکہ جس سے دوستی ہو اس سے ایسے راز چھپانا ناممکن ہوتا ہے-

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا ۭ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ ۚ } (۳:۱۱۸)

(اے ایمان والو! اپنوں کے سوا کسی دوسرے کو راز دار مت بنا ؤ - یہ لوگ تمہارے نقصان میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیںگے- تمہارے نقصان اور تمہاری تکلیف میں ان کی خوشی ہے-)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت