عہد عثمانی میں اسلامی صوبوں کی مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بہت سے صوبے ایسے تھے جہاں برابر امن و امان بحال رہا، کسی طرح کی کوئی ہڑبونگ نہ ہوئی۔ انہی میں یہ عرب صوبے آتے ہیں جیسے بحرین، یمن، مکہ، طائف وغیرہ، اسی طرح شام میں بھی امن و استقرار بحال رہا، اور بصرہ کے لوگ اپنے امیر عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں برابر فتوحات میں مشغول رہے، البتہ مصر و کوفہ میں فتنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں سر اٹھایا اور فساد برپا ہوا، اور مصر و کوفہ کے فسادیوں نے اعدائے اسلام کے بدلے مدینہ طیبہ پر چڑھائی کر دی، اور خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے درپے ہوئے۔ [1]