فهرس الكتاب

الصفحة 502 من 560

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا موقف

بعض کتب تاریخ نے عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے موقف کو مسخ کر کے پیش کیا ہے اس کا سبب وہ رافضی روایات ہیں جنھیں بہت سے مؤرخین نے ذکر کیا ہے، جو بھی تاریخ طبری اور دیگر کتب تاریخ میں ابو مخنف، واقدی اور ابن اعثم وغیرہ کی روایات کا تتبع کرے گا وہ یہ محسوس کرے گا کہ صحابہ ہی اس سازش کو حرکت دے رہے تھے اور اس فتنہ کو بھڑکا رہے تھے۔ ابو مخنف شیعی اتجاہ کا حامل ہے، خلیفہ راشدعثمان رضی اللہ عنہ پر یہ اتہام لگانے میں ذرا بھی خوف نہیں کھاتا کہ آپ کی غلطیاں اور لغزشیں بہت زیادہ تھیں اور آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا آپ اس کے مستحق تھے اور یہ شخص اپنی مرویات میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی تصویر عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالفین و معاندین کی شکل میں پیش کرتا ہے اور واقدی کی روایات ابو مخنف کی روایات سے ذرا بھی مختلف نہیں۔ ان روایات کے مطابق عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچتے ہیں اور عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اعتراضات اور طعن و تشنیع کی بوچھاڑ شروع کر دیتے ہیں، اور ایسی رافضی روایات کی بھرمار ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سازش سے متہم کرتی ہیں اور یہ باور کراتی ہیں کہ انہوں نے ہی لوگوں کو بھڑکایا اور فتنہ کو حرکت دی لیکن یہ سب سراپا جھوٹ اور کذب بیانی ہے۔ [1]

ان رافضی موضوع اور ضعیف روایات کے بر خلاف الحمدللہ محدثین کرام کی کتابوں نے صحیح روایات کو محفوظ کر رکھا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عثمان رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینے والے، آپ کی نصرت و تائید اور آپ کی طرف سے دفاع کرنے والے تھے اور قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے اپنی براء ت کا اظہار کرتے تھے اور حادثہ قتل کے بعد قصاص کے مطالبہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس سے یہ بات بعید از قیاس قرار پاتی ہے کہ انہوں نے فتنہ کو ہوا دینے اور اس کو بھڑکانے میں کسی طرح کا ساتھ دیا ہو۔ [2]

تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے بری ہیں جو بھی اس کے برخلاف کہتا ہے اس کی بات باطل ہے اس پر وہ کوئی دلیل قائم نہیں کر سکتا ہے جو صحت کے درجہ کو پہنچ رہی ہو۔ اسی لیے خلیفہ بن خیاط نے اپنی تاریخ میں عبدالاعلیٰ بن الہیثم سے روایت کی ہے جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے کہا کیا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین میں مہاجرین و انصار میں سے کوئی تھا؟ تو حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: نہیں یہ تو مصر کے اجڈ

[2] ایضًا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت