فهرس الكتاب

الصفحة 282 من 347

چہرے کا بہت کم حصہ کھولتے تھے، معلوم نہیں اس حجاب کی کیا وجہ تھی؟ تمام مشہور متون ان کو زبانی یاد تھے، مثلا: تہذیب، سلم العلوم، تلخیص المفتاح، شافیہ اور کافیہ وغیرہ، جس طرح لوگ قرآن مجید حفظ کرتے ہیں ، اسی طرح انھوں نے بہت سے متون یاد کیے ہوئے تھے، ان کے لباس میں سادگی اور گفتگومیں روانی تھی۔ بہت زیادہ استفادہ کا موقع نہیں مل سکا۔ [1]

مولانا عبد الغفار اپنے ان ہی استاذ کے بارے میں ایک مقام پر فرما تے ہیں:

''ہمارے اساتذہ میں ایک استاذ پختون بھی تھے، پشتو زبان بولنے والے، یہ ہمارے استاذ محترم اگرچہ مذہبًا حنفی تھے، لیکن مذہبی تعصب سے پاک۔ اﷲ رب العزت نے انھیں کمال کا حافظہ دے رکھا تھا۔ کتابوں کے متون انھیں زبانی یاد تھے، بغیر مطالعے کے پڑھاتے، نص کتاب کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، ان میں ہم نے ایک عجیب بات دیکھی، انھوں نے ہمیں ایک سال پڑھایا'' [2]

[2] ماہنامہ ''صراطِ مستقیم'' برمنگھم (نومبر ۱۹۹۸ء، ص: ۱۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت