قصیدہ در مدحت مدرسہ رحمانیہ دہلی
گلستان علم وفن رحمانیہ ہے شادماں
محفل علمی ہے، غنچے اور گل ہیں جمع یاں
کیوں نہ ہو جب رحمتوں کی چھا گئی ہو بدلیاں
سچ تو یہ رب تعالی بھی ہو اس پر مہرباں
اے خدا باد خزاں راکن برائے او نسیم
ناز گلہائے محبت می شود جاری شمیم
گلستان علم وفن رحمانیہ بڑھتا رہے
دہر میں گو انقلاب آیا کرے جایا کرے
اس کے دشمن گو جلیں جلتے رہیں بھنتے رہیں
رحمتوں کی بارشیں اس پر خدا کرتا رہے
ایں چنیں مکتب نمی آرد جہانے در جہاں
درمیاں گفتن و کردن تفاوت ہست داں [1]