فهرس الكتاب

الصفحة 367 من 428

پادری سلطان محمد خان صاحب غالبًا پادری عماد الدین کا تتبع کرتے ہیں اس لیے غلطی کر جاتے ہیں۔ پادری عماد الدین نے بھی اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے: ''پس تھوڑے ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔''

2۔ دوسری غلطی قابل ذکر یہ ہے کہ ''صرف خدا اپنی رحمت سے جس بندے پر کہ اس کو منظور ہو نازل فرمائے''۔ یہ ترجمہ {اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ} کا کیا ہے ۔ پادری صاحب نے یہ خیال کیاکہ خدا پر لفظ ''صرف'' لانے سے فاعل میں حصر ہو جائے گا۔ لیکن یہ حصر یہاں موہم شرک ہے مثلًا کوئی کہے ''صرف پادری سلطان محمد نے تفسیر القرآن لکھی ہے۔'' اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ پادری تو بہت ہیں مگر تفسیر لکھنے والا ایک ہی ہے۔ ہاں ''صرف'' کو {بَغْیًا} کے ساتھ لگاتے تو صحیح ہوتا۔ یعنی محض سرکشی سے انکار کرتے ہیں۔

3۔ جس کو وہ خوب جانتے تھے۔ یہ ترجمہ {مَا عَرَفُوْا} کا غلط ہے۔ یہ ترجمہ ''کانوا یعرفون'' کا ہوسکتا ہے نہ کہ {عَرَفُوْا} کا۔ صحیح ترجمہ یہ ہے: ''جب ان کے پاس وہ کتاب آئی جسے وہ پہچان چکے ہیں۔''

نوٹ: ہم پادری صاحب کی طرح زود رنج نہیں کہ مخاطب کی ذرہ سی لغزش پر آپے سے باہر ہوجائیں اور کہہ دیں کہ ہمارے قابل خطاب نہیں۔ (النجات 15؍اکتوبر 34ء ؁ ص:2) نہ ہم قادیانیوں کی طرح ہیں کہ پادری سلطان محمد صاحب کی غلطیوں پر ان کو مرتد، جاہل جیسے مکروہ الفاظ سے یاد کریں۔ (الفضل 15؍ اگست 31ء ؁) بلکہ ہمارا وہی اصول ہے جوہر اہل علم کا ہے ''لکل جواد کبوۃ ولکل عالم ہفوۃ'' (ہر گھوڑا گرتا ہے اور ہرعالم بھولتا ہے۔)

اس رکوع میں روح القدس کا ذکر آیا ہے ۔ چونکہ مسیحی عقائد میں روح القدس کسی فرشتے کا نام نہیں بلکہ تثلیث کا ایک اقنوم (حصہ) ہونے کی وجہ سے خود خدا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت