کَتَمَ شَھَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ لَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْن [البقرۃ: 130 تا 140]
ترجمہ: بتلائو تو ایسے بھلے آدمی ابراہیم کی راہ سے سوا احمقوں کے کون رو گردان ہوگا جب کہ ہم نے اُس کو تمام لوگوں پر دنیا میں پسند کیا ہے اور آخرت میں بھی وہ نیک بندوں کی جماعت میں سے ہوگا۔ اگر اُس کی بزرگی میں شک ہو تو یادکرو جب خدا نے اُسے کہا تھا کہ ہمیشہ میری تابعداری میں رہیو وہ فورًا بولاکہ حضور! میں اللہ رب العالمین کا مدت سے تابعدار ہوچکا ہوں۔ نا ممکن ہے کہ اب اس دروازہ سے ہٹوں پھر وہ ایسا ہی رہا اورابراہیم نے اور اس کی تاثیر صحبت سے اُس کے پوتے یعقوب نے اپنے بیٹوں سے وصیت کی کہ اے میرے بیٹو! خدا نے تمہارے لئے یہی توحید کادین پسند کیاہے پس تم مرتے دم تک اسی پر رہیو بلکہ اس [1] امر کے تو تم بھی گواہ ہو۔ یعقوب نے فوت ہوتے وقت اپنے بیٹوں سے بطور نصیحت اور آزمائش کہا تھا کہ میرے بعد کس کی عبادت کروگے۔ جس سے اُس کی غرض یہ تھی کہ ان کے منہ سے نکلوا لوں کہ ہم صرف خدا کی عبادت کریں گے چنانچہ انہوں نے بھی اس کے منشا کے مطابق ہی کہا کہ ہم اکیلے خدا کی عبادت کریں گے جو تیرا اور تیرے باپ دادا ابراہیم اوراسمٰعیل اور اسحٰق کا خدا ہے اور ہم تو اب بھی اُسی کے فرماں بردار ہیں یہ ایک جماعت کیسی بابرکت تھی جو اپنے وقت میں گذر