کتاب اللہ کے سوا کسی کتاب پر عمل کرتے تو مشرک ہوجاتے، پھر اور کسی کا کیا ذکر ہے۔
''کتاب اللہ کے مقابلہ میں انبیاء اور رسولوں کے اقوال و افعال یعنی احادیث قولی و فعلی و تقریری پیش کرنے کا مرض ایک قدیم مرض ہے، محمد رسول اللہ سلامٌ علیہ کے مقابل و مخاطب بھی قطعی اور یقینی طور پر اہل حدیث ہی تھے، کیونکہ ابراہیم ، اسمٰعیل ، اسحاق، یعقوب، موسیٰ، عیسیٰ، سلیمان وغیرہ وغیرہ رسل انبیاء سلام ٌ علیہم کی احادیث قرآن مجید کے مقابلہ [1] میں پیش کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء سلام علیہم کی ایسی احادیث سے براء ت ظاہر کی، دراں احادیث کو کفر اور شرک کہا اور رسول اللہ سلامٌ علیہ کو یہ تعلیم دی کہ تم ان کو جواب دو کہ میں ان مشرکانہ اقوال و افعال کا کیوں اتباع کروں مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ اگر میں شرک کروں تو میرے تمام عمل برباد ہوجائیں گے، جیسا کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
{وَاتَّبِعُوْآ اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رِّبِّکُمْ} (الاٰیۃ) {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ} [الزمر: 55، 65] پس مطابق آیت {وَ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا } کے اس جگہ شرک سے خاص کتاب اللہ ہی کے ساتھ شرک کرنا مراد ہے اوراس جگہ اسی شرک کی ممانعت ہے پس کتاب اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے یہ مراد ہے کہ جس طرح کتاب اللہ کے احکام کو مانا جاتا ہے اسی طرح کسی اور