الصفحة 118 من 140

باب القطع والوصل

القطع کو الفصل بھی کہا جاتا ہے۔ القطع کا معنی یہ ہے کہ کلمہ کو مابعد سے کاٹ کر لکھنا، اور یہی اصل ہے، جبکہ وصل اس کی ضد ہے۔

مقطوع اور موصول کی یہ بحث اکیس مسایل پر مشتمل ہے۔

(1) أن (ہمزہ مفتوحہ، نون مخففہ) کا لا سے اتصال

درج ذیل دس مقامات پر بالاتفاق أن کو لا سے علیحدہ کرکے لکھا جاتا ہے۔

أَن لَّآ أَقُولَ (الاعراف)

أَن لَّا یَقُولُواْ (الأعراف)

أَن لَّا مَلْجَأَ (التوبۃ)

وَأَن لَّآ إِلَہَ إِلَّا ھُوَ (ھود)

أَن لَّا تَعْبُدُواْ إِلَّا اللّٰہَ (الثانی فی ھود)

أَن لَّا تُشْرِکْ (الحج)

أَنْ لَّاتَعْبُدُواْ (یٰس)

وَأَن لَّا تَعْلُواْ (الدخان)

أَن لَّا یُشْرِکْنَ (الممتحنۃ)

أَن لَّا یَدْخُلَنَّھَا (ن)

جبکہ أَن لَّآ إِلَٰہَ إِلَّا ٓ أَنتَ (الانبیائ) میں فصل و وصل دونوں ہی منقول ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت