الصفحة 121 من 140

ان تینوں کے علاوہ دیگر تمام مقامات پر مِن کو مَا سے موصول لکھا گیا ہے۔ امام قرطبی رحمہ اللہ نے امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ سے سورۃ النور میں جو قطع نقل کیا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

(11) عَنْ کا مَا سے اتصال

سورۃ الاعراف کے عَن مَّانُھُواْ میں عَنْ کو مَا سے مقطوع لکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام مقامات پر موصول لکھا گیا ہے جیسے عَمَّا تَعْمَلُونَ، عَمَّا سَلَفَ

(12) عَنْ کا مَنْ سے اتصال

عَن مَّن یَشَآئُ (النور) اور عَن مَّن تَوَلَّیٰ (النجم) دونوں میں بالاتفاق عَنْ کو مَنْ سے مقطوع لکھا گیا ہے۔

(13) أَمْ کا مَنْ سے اتصال

چار مقامات پر أَمْ کو مَنْ سے مقطوع لکھا گیا ہے۔

أَم مَّن یَکُونُ عَلَیْھِمْ وَکِیلًا (النساء )

أَم مَّنْ أَسَّسَ (التوبۃ)

أَم مَّنْ خَلَقْنَا (الصافات)

أَم مَّن یَأْتِیٓ ئَ امِنًا (فصلت)

ان کے علاوہ دیگر تمام مقامات پر موصول لکھا گیا ہے۔

(14) کُلّ کا مَا سے اتصال

کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوہُ میں بالاتفاق کُلِّ کو مَا سے قطع کرکے لکھا گیا ہے۔ اور شیخین سے کُلَّ مَارُدُّوٓاْ اور کُلَّ مَا جَآئَ میں اختلاف مروی ہے۔ جبکہ دونوں میں قطع پر عمل ہے۔

کُلَّمَا دَخَلَتْ اور کُلَّمَآ أُلْقِیَ میں امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے وصل کو اختیار کیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت