فهرس الكتاب

الصفحة 116 من 224

کہہ دے۔

ابو عمر بن عبدالبر ( م ۴۶۳ھ ) نے کہا: ابو درداء سے صحیح روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: لا ادری ( میں نہیں جانتا) کہنا نصف علم ہے۔

امام مالک اور امام ابن عیینہ :

ابن عیینہ [1] امام مالک کے ہم عصر اور ان کے ہمسر تھے۔ امام شافعی کہتے ہیں: مالک اور ابن عیینہ دونوں معاصر ہیں ۔ اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو علم حجاز سے رخصت ہو جاتا۔ [2]

اس کے باوجود روایت ہے کہ ابن عیینہ نے ایک بار ایک حدیث ذکر کی تو ان سے کہا گیا کہ اس حدیث میں امام مالک آپ سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا: مالک سے مجھے ملا رہے ہیں ؟ کہاں وہ اور کہاں میں ؟ دونوں کا کیا مقابلہ؟

سفیان بن عیینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ:

'' قریب ہے کہ لوگ طلب علم میں سفر کریں گے تو عالم مدینہ سے بڑا کوئی عالم نہ پائیں گے۔ سفیان سے پوچھا گیا وہ کون عالم ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا: وہ مالک بن انس ہیں اور وہ کہتے تھے ان کے پاس صحیح احادیث ہی پہنچتیں ۔ ثقہ راویو ں سے وہ حدیثیں لیتے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ میں ان کے بعد علمی ویرانی چھا جائے گی۔ '' [3]

امام مالک اور امام شافعی:

امام شافعی کہتے ہیں: مالک بن انس میرے استاد ہیں ۔ ان سے میں نے علم حاصل کیا۔

[2] الانتقاء: ۲۲۔

[3] الانتقاء: ۳۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت