فهرس الكتاب

الصفحة 89 من 224

٭ فقیہ راوی کا اپنی روایت کے خلاف عمل ہو تو روایت نہیں بلکہ اس کی رائے پر عمل ہو گا۔

٭ خبر واحد اور قیاس جلی سے تعارض ہو تو قیاس جلی مقدم ہو گا۔

٭ بوقت ضرورت قیاس کو چھوڑ کر استحسان [1] قبول کر لیا جائے گا۔

ابو ابو حنیفہ سے منقول ہے … ہمارے علم نے ہمیں یہی راہ دکھائی جو ہمارے غورو فکر و اندازے کے مطابق سب سے بہتر ہے۔ اور اگر کوئی اس سے بھی بہتر چیز لائے تو ہم اسے قبول کر لیں گے۔

۲۔ مسلک امام مالک:

امام مالک کا اپنا ایک الگ طرزِ فکر ہے ۔ وہ کہتے ہیں:

''کیا جب جب کوئی شخص ہمارے پاس آئے تو اس کے بحث و جدل کی وجہ سے ہم وہ چیزچھوڑ دیں جسے جبریل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔'' [2]

اس کا ذکر پہلے ہی گذر چکا ہے کہ آپ دبستانِ سعید بن مسیب کے حجازی مسلک سے وابستہ ہیں ۔ آپ کے مسلک کے اُصول و ضوابط کا خلاصہ اور ان کی ترتیب درج ذیل ہے:

٭ نص کتاب اللہ

٭ ظاہر نص۔ یعنی عموم

٭ دلیل نص۔ یعنی مفہوم مخالف

٭ مفہوم نص۔ یعنی مفہوم موافق

٭ تنبیہ نص ۔ یعنی علت پر تنبیہ جیسے اس آیت میں ہے: {فَإِنَّہُ رِجْسٌ اَوْفِسْقًا}

قرآنِ حکیم سے اخذ کردہ یہ پانچ اُصول ہیں اور حدیث و سنت سے بھی دس (۱۰) اُصول ماخوذ ہیں:

[2] الفکر السامی: ۱؍۳۷۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت