فهرس الكتاب

الصفحة 44 من 115

یَقْتُلُ أَصْحَابَہُ۔'' [1]

''ہم ایک غزوہ میں تھے۔ایک مہاجر شخص نے ایک دوسرے انصاری شخص کی پیٹھ پر اپنے ہاتھ یا اپنے قدم کے درمیانی حصے کے ساتھ ٹھوکر لگائی۔مہاجر نے آواز دی:''اے مہاجرو!'' انصاری نے بھی آواز دی:''اے گروہِ انصار!۔''

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان [آوازوں] کو سنا تو فرمایا:''یہ جاہلیت کے بلاوے کیسے ہیں؟''

صحابہ نے عرض کی:''ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کی پیٹھ پر اپنے ہاتھ یا اپنے قدم کے درمیانی حصے سے ٹھوکر لگائی ہے۔''

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''ان [بلاووں] کو چھوڑو، یہ تو گندے ہیں۔''

عبداللہ بن ابی ابن سلول نے [اس واقعہ کو] سنا تو کہنے لگا:''کیا انہوں نے [مہاجرین] نے ایسے ہی کیا ؟ اگر ہم مدینہ پلٹے تو معزز لوگ ذلیل لوگوں کو وہاں سے ضرور نکال دیں گے۔''

عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:''اے اللہ تعالیٰ کے رسول - صلی اللہ علیہ وسلم - مجھے اس منافق کی گردن مارنے [کی اجازت] دیجیے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد - صلی اللہ علیہ وسلم - اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔''

ایک دوسری روایت میں ہے:

''فَقَالَ لَہُ ابْنُہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ:''وَاللّٰہِ! لاَ تَنْقَلِبُ حَتَّی تُقِرَّأَنَّکَ الذَّلِیْلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم الْعَزِیْزُ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت