فهرس الكتاب

الصفحة 53 من 115

قرض کی حسن ادائیگی کا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دینے کی تلقین

والدین کے احتساب کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس بات کی تنبیہ کی کہ انہیں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرض کی حسن ِادائیگی کا حکم دینا چاہیے تھا۔

امام ابن حبان ؒ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے زید بن سعنہ کا قصہ روایت کیا ہے۔اور اسی قصے میں ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گریبان کو پکڑا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے واجب قرض کی ادائیگی کا مطالبہ وعدئہ ِادائیگی سے دو یا تین دن پہلے ہی انتہائی سخت انداز میں کیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس صورتِ حال کو دیکھا تو غضبناک نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا، اور اس سے فرمایا:

''أَي عَدُوَّ اللّٰہِ! أَتَقُوْلُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مَا أَسْمَعُ، وَتَفْعَلُ بِہِ مَا أَرَی ؟ فَوَالَّذِي بَعَثَہٗ بِالْحَقِّ ! لَوْلاَ مَا أُحَاذِرُ فَوْتَہٗ لَضَرَبْتُ بِسَیْفِي ہٰذَا عُنُقَکَ۔''

''اے اللہ تعالیٰ کے دشمن ! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کچھ کہہ رہا ہے جو میں سن رہا ہوں، اور وہ کچھ کر رہا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ اگر وہ بات نہ ہو جائے جس کے ہونے کا مجھے اندیشہ ہے [1] تو میں اپنی اس تلوار سے تیری گردن کاٹ دیتا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت