فهرس الكتاب

الصفحة 48 من 115

ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک دوسرے بیٹے کا باپ کا احتساب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام سے پہلے خوشبو استعمال فرمائی۔ [1] حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس سنت مبارک سے آگاہ نہ ہونے کے سبب اس کو پسند نہ کرتے تھے۔اس سلسلے میں ان کے بیٹے عبداللہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے انتہائی با ادب طریقے سے ان کا احتساب کیا۔

دلیل:

امام ابن حزم ؒ نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

''دَعَوْتُ رَجُلًا، وَأَنَا جَالَِسٌ بِجَنْبِ أَبِيْ فَأَرْسَلْتُہُ إِلٰی عَائِشَۃَ رضي اللّٰہ عنہا أَسْأَلُہَا عَنِ الطَّیْبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ، وَقَدْ عَلِمْتُ قَوْلَہَا، وَلٰکِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ یَسْمَعَہُ أَبِيْ۔

فَجَائَ نِيْ رَسُوْلِيْ، فَقَالَ:''إِنَّ عَائِشَۃَ رضي اللّٰہ عنہا تَقُوْلُ:''لا بَأْسَ بِالطِّیْبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ فَأَصِبْ مَا بَدَا لَکَ۔''

فَصَمَتَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رضي اللّٰہ عنہما۔'' [2]

''میں نے اپنے باپ کے پہلو میں بیٹھے ایک شخص کو بلایا، اور اس کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تاکہ ان سے احرام کے وقت خوشبو استعمال کرنے کے بارے میں دریافت کرے۔

[2] المحلّی، مسألہ ۸۲۵، ۷/۹۰۔۹۱

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت