فهرس الكتاب

الصفحة 70 من 193

خواب میں دودھ پینا

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

(( بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِیتُ بِقَدَحٍ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْہُ حَتّٰی إِنِّي لأََرَی الرِّيَّ یَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَیْتُ فَضْلِي یَعْنِي عُمَرَ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: الْعِلْمَ ) )

''میں سو رہا تھا کہ مجھے دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا۔ میں نے اسے پیا حتی کہ سیر ہوگیا اور اس کی سیرابی نے میرے ناخنوں تک اثر کیا، پھر میں نے بچا ہوا دودھ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ صحابہ نے عرض کی: اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم۔'' [1]

اس حدیث میں دودھ کو علم سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ جس طرح دودھ جسم کے لیے مفیدہے، اس سے جسم نشوونما پاتا اور طاقتور ہوتا ہے، اسی طرح علم روح کے لیے مفیدہے۔ اس سے روح مضبوط اور توانا ہوتی ہے۔

پھر دودھ کو فطرت کے ساتھ بھی تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ حدیثِ معراج میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شراب اور دودھ کے پیالے پیش کیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ والا پیالہ لے لیا۔ اس موقع پر جناب جبریل علیہ السلام نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کاانتخاب کیا ہے۔ [2]

اگر کوئی شخص خواب میں اپنے آپ کو دودھ پیتا دیکھے تو ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ اس کو علم سے نوازے گا اور عوام کو اس کے علم سے فائدہ پہنچے گا۔

[2] صحیح البخاري، حدیث: 3394۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت