(( ھَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ بِالصَّلٰوۃِ؟ ) ) [1]
''کیا تو نماز کی آذان سنتا ہے؟''
اس آدمی نے کہا:جی ہاں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( فَأَجِبْ ) )
''پس اس کا جواب دے۔'' (یعنی نماز مسجد میں امام کے ساتھ پڑھ)
اس حکم اور دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ (صحیح العقیدہ) امام کے پیچھے نماز باجماعت پڑھنا لازمی ہے اِلا یہ کہ عذرِ شرعی ہو۔
اگر امام صحیح العقیدہ نہ ہو،بدعتی ہوتو اس کے بارے میں مسئلہ ذرا تفصیل طلب ہے۔
بدعت کی دوبڑی قسمیں ہیں:
(1) بدعتِ صغریٰ مثلًا تشیع المتقدمین۔ (کتشیع عبدالرزاق بن ھمام وغیرہ)
(2) بدعتِ کبریٰ (کالرفض) [2]
بدعتِ صغری والے کی روایت مقبول ہے بشرطیکہ وہ ثقہ وصدوق ہو۔
بدعتِ کبریٰ کی دو قسمیں ہیں:
(ا) بدعتِ مفسقہ (کبدعۃ الخوارج وغیرھم) [3]
(ب) بدعتِ مکفرہ (کبدعۃ الجھمیۃ وغیرھم) [4]
اگر بدعتِ مکفرہ ہوتو ایسے شخص کی روایت مردود ہوتی ہے۔
[2] میزان الاعتدال،ج۱ص۳،۵ وہدی الساری،ص۴۵۹
[3] فتح الباری،ج۱۰ص۴۶۶ وہدی الساری،ص۳۸۵
[4] اختصار علوم الحدیث لابن کثیر،ص۸۳نوع:۲۳