الصفحة 55 من 76

لے۔پھر اگر اسے معلوم ہوجائے کہ وہ (امام ) بدعتی ہے تو (اپنی نماز کا) اعادہ کرلے۔''

3امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ کا فتویٰ:

امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ نے فرمایا:

[لا یصلی خلفھم] [1]

''ان (جہمیہ) کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔''

4امام یزید بن ہارون رحمہ اللہ کا فتویٰ:

محدث یزید بن ہارون رحمہ اللہ سے جہمیہ کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: [لَا] ''یعنی ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔''

پوچھا گیاکہ کیا مرجئیہ کے پیچھے نماز پڑھی جائے؟تو انہوں نے فرمایا:

[انھم لخبثاء] [2]

''بے شک وہ خبیث ہیں۔''

5امام بخاری رحمہ اللہ کا فتویٰ:

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا:

[ما أبا لي صلیت خلف الجھمي والرافضي أم صلیت خلف الیھود والنصاریٰ۔۔۔۔۔] [3]

''مجھے پرواہ نہیں ہے کہ جہمی ورافضی کے پیچھے نماز پڑھوں یا یہودونصاریٰ کے پیچھے نماز پڑھوں ؟

[2] السنۃ۱/۱۲۳فقرہ:۵۵وسندہٗ صحیح

[3] خلق فعال العباد،ص۲۲،فقرہ:۵۳

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت