الصفحة 54 من 76

بدعتی کے پیچھے نماز کے عدمِ جواز کے فتوے

1محدّث سلام بن ابی مطیع رحمہ اللہ کا فتویٰ:

مشہور ثقہ محدث سلام بن مطیع رحمہ اللہ نے فرمایاہے:

[الجھمیۃ کفار لا یصلی خلفھم] [1]

''جہمیہ کفار ہیں۔اُن کے پیچھے نما ز نہ پڑھی جائے۔''

اس روایت کی سند صحیح ہے۔زھیر بن نعیم البابی کو عبداللہ بن احمد بن حنبل اور ابن حبان [2] نے ثقہ قرار دیا ہے۔والحمد للہ

2امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فتویٰ:

امامِ اہلِ سنّت احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اہلُ البدع کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

[لا یصلی خلفھم مثل الجھمیۃ والمعتزلۃ] [3]

''جہمیہ اور معتزلہ جیسوں کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔''

صالح بن احمد بن حنبل کہتے ہیں:

[قلت:من خاف أن یصلي خلف من لا یعرف؟فقال:یصلي فان تبین لہ أنہ صاحب بدعۃ أعاد] [4]

''میں نے (امام احمد سے) کہا:جسے یہ خوف ہو کہ وہ اس شخص کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے جسے وہ جانتا نہیں ؟تو (امام احمد نے) فرمایا:وہ نماز پڑھ

[2] الثقات۸/۲۵۶

[3] کتاب السنۃ لعبد بن أحمد بن حنبل ،ج۱ص۱۰۳فقرہ:۶

[4] مسائل صالح:۴۵۲ص۱۱۹

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت