1 فقہ حنفی کی معتبر کتاب''درمختار''ج۱،ص۸۲ پر امامت کی بنیادی شرائط ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:
(ثم الاحسن زوجۃً)
''پھر (اسے امام بنایا جائے) جسکی بیوی بہت زیادہ حسین وخوبصورت ہو۔''
2 اُسی کتاب کے اُسی مقام پر یہ بھی لکھا ہے:
(ثم اصبحھم أی اسمحھم وجھًا)
''پھر (اسے امام بنایا جائے) جسکا چہرہ سب سے زیادہ خوبصورت ہو۔''
3 اسی جگہ کے مذکورہ مقام پر ہی یہ بھی لکھا ہوا ہے:
(ثم الاکبرراسًا والأصغر عضوًا)
''پھر (اسے امام بنایا جائے) جسکا سر بہت بڑا اور''عضو'' بہت چھوٹا ہو۔''
اور حاشیۃ الطحاوی،ص ۱۶۴ اور شرح مراقی الفلاح مصری،ج۱ص۱۷۵ پر لکھا ہے:
(فسرہ بعض المشائخ بالا صغر ذکرًا لان کبرہ الفاحش یدل غالبًا علی دناء ۃ الاصل)
''بعض مشائخ نے چھوٹے عضو کی تفسیر چھوٹے ذَکر (عضوِ تناسل) سے کی ہے کیونکہ اسکا بہت بڑا ہونا عمومًا اس آدمی کے ذلیل الاصل ہونے کی دلیل وعلامت ہوتی ہے۔''
قارئینِ کرام! یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے ورنہ طہارت وامامت،نماز وروزہ اور حج وغیرہ بکثرت مقامات پر ایسے مسائل ملتے ہیں۔تفصیل کیلئے دیکھیے مترجمِ تفسیر ابن کثیر (اردو) مولانا محمد ابراہیم جوناگڑھیؒ کی کتاب''سیفِ محمدی''وغیرہ۔