فهرس الكتاب

الصفحة 134 من 396

''میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے صحابہ کو حکم فرمائیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ کہیں ، کیونکہ یہ شعائرِ حج میں سے ایک شعار ہے ۔ '' [1]

اس تلبیہ کی فضیلت کا اندازہ سنن ترمذی، ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ، بیہقی اور مستدرک حاکم میں مذکور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے بھی ہوجاتا ہے جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(( مَا مِنْ مُلَبٍّ یُلَبِّيْ اِلَّا لَبَّیٰ مَا عَنْ یَمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ، مِنْ حَجَرٍ وَشَجَرٍ وَمَدَرٍ، حَتّٰی تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ ھَاھُنَا وَ ھَاھُنَا، عَنْ یَمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ ) ) [2]

واضح رہے کہ حدیث السائب بن خلاد میں (( فَاِنَّہٗ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ ) )کے الفاظ نہیں ہیں۔

اس حدیث کو ترمذی (۲۲۸) ابن ماجہ (۲۹۲۱) ابن خزیمۃ (۲۶۳۴) طبرانی نے ''الاوسط'' (۲۵۸) میں، حاکم (۱/ ۴۵۱) ان سے بیہقی (۵/ ۴۳) اور ابو یعلی (۷۵۴۳) نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند حسن درجہ کی ہے اور ابن خزیمۃ، حاکم اور ذہبی نے اس کو صحیح کہا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت