فهرس الكتاب

الصفحة 339 من 396

(( وَلَایقِفُ عِنْدَھَا ثُمَّ یَنْصَرِفُ ) ) [1]

''وہاں (دعا کے لیے) کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ چلے جاتے تھے۔''

ایسے ہی یہی طریقہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں بھی ہے جو کہ سنن ابو داود، مسنداحمد، صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم کے حوالے سے گزری ہے۔ اس میں مذکورۂ سابقہ الفاظ کے آگے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اور دوسرے جمرے کو سات سات کنکریوں سے رمی کی اور دونوں کی رمی کے بعد ایک طرف کھڑے ہوکر طویل وقت تک دعا فرمائی مگر تیسرے پر رمی کے بعد کھڑے نہیں ہوئے اور نہ دعا کی۔ [2]

رمی ٔ جمرات کے لیے سواری:

جمرات کی رمی کے لیے جاتے وقت سواری پر بیٹھنا جائز ہے اور پیدل جانا بھی۔ البتہ مستحب وافضل یہ ہے کہ یومِ نحر کی رمی کے وقت تو چاہے سواری استعمال کرلی جائے مگر باقی دنوں (ایامِ تشریق) میں پیدل جایا جائے کیونکہ سنن ابو داود اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملتے جلتے الفاظ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یومِ نحر میں جمرئہ عقبیٰ کی رمی کے لیے تو سوار ہوکر گئے مگر ایامِ تشریق میں پیدل ہی آتے اور جاتے تھے۔ [3]

[2] دیکھیں (۳۳۷)

[3] ابو داود (۱۹۶۹) بیہقی (۵/ ۱۳۱) اس حدیث کی سند حسن درجہ کی ہے۔ اس میں ایک راوی، عبداللہ بن عمر العمری ہیں۔ علّامہ ذہبی نے ''میزان الاعتدال'' (۲/ ۴۶۵) میں اس کے بارے میں یہ کہا ہے: ''صَدُوْقٌ فِيْ حِفْظِہٖٖ شَئٌ'' اور ''المغنی'' (۱/ ۳۴۸) میں کہا ہے: ''صَدُوْقٌ حَسَنُ الْحَدِیْثِ''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت