فهرس الكتاب

الصفحة 321 من 396

یہ تو حج کی قربانی ''ہدی'' کا حکم ہے جبکہ اپنے وطنوں اور گھروں میں جو عیدالاضحی پر قربانی کی جاتی ہے اس میں اونٹ دس آدمیوں (گھروں) کی طرف سے بھی کفایت کرجاتا ہے لیکن گائے سات ہی آدمیوں (گھروں) کی طرف سے۔ اس کی تفصیل ہماری کتاب ''احکام ومسائلِ عیدین و قربانی'' میں دیکھیں جو کہ طبع ہوچکی ہے۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔

نحر کرنے کا طریقہ:

اونٹ جسے کہ عام جانور کی طرح ذبح نہیں کیاجاتا بلکہ ''نحر ''کیاجاتا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اونٹ کا اگلا بایاں پاؤں گھٹنے سے باندھ کر اسے تین قدموں پر کھڑا رہنے دیں جیساکہ صحیح بخاری ومسلم اور ابو داود میں مذکو رہے۔ [1]

صحیح بخاری میں تعلیقًااورمؤطا امام مالک میں موصولًاصحیح سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک موقوف اثر میں ہے کہ وہ قربانی کے جانور کواِشعارِ قربانی لگانے کے لیے جب چھری وغیرہ مارتے تواسے قبلہ رو کر لیتے تھے۔ [2] اس سے یہ حکم اخذ کیا گیا ہے کہ اونٹ کو نحر کرتے وقت قبلہ رو کرلینا چاہیے اور نحر کے وقت بھی وہی دعا کریں جو عام جانور کو قربان کرتے وقت کی جاتی ہے جو کہ گزر چکی ہے۔

[2] بخاری (۳/ ۵۴۲۔ الفتح) میں نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رو کرلیا کرتے تھے۔ بخاری میں یہ اثر تعلیقًا ہے اور اس کو مالک (۱/ ۳۷۹) اور بیہقی نے موصولًا روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ مرفوع روایت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس کو ابو داود (۲۷۹۵) ابن ماجہ (۳۱۲۱) دارمی (۲/ ۷۵۔ ۷۶) ابنِ خزیمہ (۲۸۹۹) بیہقی (۹/ ۶۸۷) اور احمد (۳/ ۳۷۵) نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت