حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی عرفات میں اونٹنی سے گر کر وفات پانے والے شخص کی تکفین وتدفین کے سلسلہ میں (( لَا تُخَمِّرُوْا رَاْسَہٗ ) )کے الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف سر کو ڈھکنے سے منع فرمایا گیا تھا اور اس میں چہرہ داخل نہیں ہے۔ لہٰذا جمہور کا مسلک یہی ہے کہ چہرے کو ڈھانپنے کی اجازت ہے۔ البتہ اس حدیث کی بعض روایات میں (( لَا تُخَمِّرُوْا وَجْھَہاہلِ علم میں سے علامہ ناصر الدین البانی نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اس قول کو ''عجیب '' قراردیا ہے اور''چہرے ''کے لفظ والے اضافے کو ثابت قراردیا ہے۔
(الإرواء: ۴/ ۲۰۰)
اہلِ ظاہر کا کہنا ہے کہ دونوں طرح کے مواقع پر عمل کرنے کے لیے یوں کریں کہ اگر مُحرم زندہ ہو تو وہ چہرے کو ڈھانپ لے تو یہ جائز ہے، ہاں اگر کوئی احرام کی حالت میں ہی مرجائے تو اس کے منہ کو ننگا رکھا جائے۔ (فتح الباري: ۴/ ۵۴۔ ۵۵)
امام نووی رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ مُحرم میت کے چہرے کو ڈھانپنے کی ممانعت اس بنا پر نہیں کہ وہ مُحرم ہے بلکہ یہ ممانعت اس بنا پر