فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
''اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اپنی قوتِ سماعت وشنوائی کی برائی سے اپنی قوتِ بینائی، اپنی زبان، اپنے دل اور مادۂ منویہ کی برائی سے۔''
(ابو داود ، ترمذی ، نسائی ، حاکم)
34۔ (( اَللّٰھُمّٰ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ مُنْکَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَھْوَائِ وَ الْأَدْوَائِ ) ) [1]
''اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، بداخلاقی، بدعملی، حرص وہویٰ اور بیماریوں سے۔'' (ترمذی ، حاکم ،طبرانی )
35۔ (( اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَائٍ لَا یُسْمَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ، أَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھٰؤُلٓائِ الْاَرْبَعِ ) ) [2]
''اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں، ایسے دل سے جس میں خشیت وڈر نہ ہو ، ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو ، ان چاروں سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔'' (ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، حاکم)
[2] ابو داود (۱۵۴۸) ترمذی (۳۴۸۲) نسائی (۸/ ۲۵۵، ۲۶۳، ۲۶۳، ۲۶۴، ۲۸۴، ۲۸۵) ابن ماجہ (۳۸۳۷) حاکم (۱/ ۱۰۴) یہ دعا ابو داود، نسائی، ابن ماجہ اور مستدرک میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ترمذی اور اسی طرح نسائی میں بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور نسائی و مستدرک حاکم میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
اسی طرح مسلم (۱۷/ ۴۱) میں یہ دعا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ ان کی حدیث میں اس سے پہلے دیگر کلمات کا بھی اضافہ ہے۔