کو اللہ تعالیٰ جو مقام ومرتبہ عطا فرماتا ہے وہ صرف انھیں لوگوں کا حصہ ہے جو اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لیے اور سروں پر کفن باندھے محاذِ جنگ پر دشمنوں کو للکارتے ہیں مگر وہ انسانی طبقے جو اس دل گردے کے مالک نہیںہوتے کہ معرکۂ حق وباطل کو سر کر سکیں، انھیں جہاد کا ثواب عطاکرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حج کو اس کا نعم البدل قراردیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف اوربعض دیگر کتبِ حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
(( نَرَی الْجِھَادَ اَفْضَلَ الْاَعْمَالِ، اَفَلَا نُجَاھِدُ ؟ ) )
''ہم جہاد کو افضل اعمال میں سے سمجھتے ہیں تو کیا ہم (عورتیں) بھی جہاد نہ کریں؟''
اس پر نبی رحمۃ لّلعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(( لَکُنَّ اَفْضَلُ الْجِھَادِ: حَجٌّ مَبْرُورٌ ) ) [1]
''تمھارے لیے افضل جہاد: حجِ مبرور ہے۔''
جبکہ صحیح بخاری ہی کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت طلب کی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( جِھَادُکُنَّ الْحَجُّ ) ) [2] ''تمھارا جہاد حج ہے۔''
[2] ان الفاظ سے اس حدیث کو بخاری (۲۸۷۵) ''الجہاد'' بیہقی (۴/ ۳۲۶، ۹/ ۲۱) اور احمد (۶/ ۶۷، ۱۶۵، ۱۶۶) نے روایت کیا ہے۔ بیہقی اور احمد میں ''جہاد کنّ'' کےبعد ''أو حسبُکنّ'' کے الفاظ بھی ہیں۔ اس حدیث کو سعید بن منصور (۲۳۳۹) ابن عدی (۴/ ۱۳۸۷) اور ابو یعلی (۴۵۱۱) نے ''جہاد النساء: الحج'' (عورتوں کاجہاد حج ہے) کے الفاظ سے بھی روایت کیا ہے۔ اسی طرح ملاحظہ ہو: ''مسند احمد'' (۶/ ۶۸، ۱/ ۱، ۱۲۰)