الصفحة 110 من 228

دن کے احکام

اذان کے احکام:

اذان کہنا واجب ہے۔ (مسلم:۶۷۴/۱۵۳۴) اذان کھڑے ہو کر کہنا فرض ہے۔ (بخاری۵۰۴،مسلم:۸۷۳)

مؤذن حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے وقت اپنے دائیں اور بائیں پھیرے گا۔ (مسلم:۵۰۳)

اذان دوہری اور اقامت اکہری کہنی چاہیے۔ (بخاری۶۰۳، مسلم:۳۷۸)

مگر قد قامت الصلاۃ کو دو بار کہنا چاہیے۔ (بخاری:۶۰۵، مسلم:۳۷۸)

ایک مسجد کے دو مؤذن مسنون ہیں۔ (بخاری۶۲۲، مسلم:۳۸۰)

نابینا بھی اذان دے سکتا ہے۔ (مسلم:۳۸۱)

مؤذن ایسا بنانا چاہئے جو اذان پر اجر ت کا مطالبہ نہ کرے۔ (أبو داود:۵۳۱، إسنادہ صحیح)

اذان کے بعد تثویب (دوبارہ نماز کا اعلان کرنا ) سیدنا ابن عمر کے نزدیک بدعت ہے۔ (ابو داود:۵۳۸،حسن)

جس جگہ سے اذان کی آواذ آ رہی ہو وہاں پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔ (مسلم:۳۸۲)

جب شیطان اذان سنتا ہے تو وہ مقام روحا پر چلا جاتا ہے۔ (مسلم:۳۸۸)

وہ گوذ مارتا ہو جاتا ہے حتی کہ وہ اذان کی آواز نہیں سنتا۔ (مسلم:۳۸۹)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت