بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم
مولانا محمد ابراہیم حفظہ اللہ ، جو ابن بشیر الحسینوی کے قلمی نام سے ایک عرصے سے علمی و دینی مضامین جماعت کے علمی جرائد میں لکھ رہے ہیں، ان کا بیشتر تعلق دینی احکام و مسائل سے ہے۔
یہ احکام و مسائل اس اعتبار سے ممتاز ہیں کہ ان میں:
أولًا:نہایت اختصار سے کام لیا گیا ہے اور اِطناب و تفصیل سے گریز کیا گیا ہے۔
ثانیًا: ہر بات باحوالہ ہے، کوئی مسئلہ حوالے کے بغیر نہیں ہے۔
ثالثًا:کسی ضعیف حدیث سے استدلال نہیں کیا گیا ہے، صرف صحیح یا حسن احادیث کا اہتمام و التزام کیا گیا ہے، اسی لیے ہر حدیث کی تحقیق و تخریج کا التزام ہے۔
رابعًا:اختلافات کے بیان سے گریز اور مثبت انداز سے صرف راجح اور قوی مسئلہ بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔
خامسًا: فاضل مؤلف حفظہ اللہ کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان احکام مسائل پر روشنی ڈالیں جن پر بہت کم لکھا گیا ہے اور ان کی بابت زیادہ تفصیل دستیاب نہیں، گویا نادر احکام و مسائل کو ضبطِ تحریر میں لانا ان کے پیشِ نظر ہے۔
سادسًا: اختصار کے ساتھ جامعیت کا بھی اہتمام ہے، یعنی جزئیات تک پر فاضل مؤلف کی نظر ہے اور وہ ان کو بھی بیان کرتے ہیں، مثال کے طور پر رات کے احکام کی تعداد ۲۶۵ جانوروں سے متعلقہ احکام کی تعداد ۳۱۵ اور بالوں کے احکام کی تعداد ۱۳۷ ہے۔ وعلیٰ ہذا القیاس!