الصفحة 118 من 228

خزیمہ: ۲/۷۱ ح۹۴۴ استاذمحترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:وسندہ حسن،اس روایت کا راوی محبوب بن الحسن بن ہلال بن ابی زینب حسن الحدیث ہے ،جمہور محدثین نے اسے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے۔)

حافظ ابن حزم فرماتے ہیں کہ:

'' اس پر اتفاق ہے کہ خوف وامن ،سفرو حضر میں صبح کی نماز دو رکعتیں (فرض) ہیں۔'' (مراتب الاجماع:ص۲۴،۲۵)

ابن المنذر فرماتے ہیں کہ:

''اجماع ہے کہ مغرب اور فجر کی نماز میں قصر نہیں۔'' (کتاب الاجماع:رقم۶۰)

۴۔ نماز فجر میں قرات اونچی آواز میں ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری:۷۷۳،،۷۷۴)

۵۔ نماز فجر میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت تلاوت کی جا سکتی ہے تاہم اس میں مسنون قرات درج ذیل ہے۔

سورۃ الطور: (صحیح البخاری:قبل ح۷۷۳تعلیقا)

سورۃ المؤمنون: (صحیح البخاری:قبل ح۷۷۴تعلیقا،صحیح مسلم:۴۵۵)

سورۃ التکویر: (صحیح مسلم:۴۵۶)

سورۃ قٓ: (صحیح مسلم:۴۵۸)

عمومًا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں طوال مفصل (سورۃ الحجرات سے لے کر سورۃ البروج تک) سورتیں پڑھتے تھے۔ (نسائی: ۹۸۳، إسنادہ صحیح)

بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں ''قل اعوذ برب الفلق '' اور''قل اعوذبرب الناس'' بھی پڑھی۔ (ابوداؤد: ۱۴۶۳، اسے حاکم(المستدرک: ۱/۲۴۰) ذہبی، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔''

فجر کی دونوں رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ''اذا زلزلت الارض'' تلاوت فرمائی۔ (ابوداؤد:۸۱۶، اسے اما م نووی نے صحیح کہا ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت