فهرس الكتاب
سرمنڈا تا ہے وہ خارجی ہے۔ (دیکھئے احکام ومسائل للشیخ نورپوری ۱/۵۳۱)
٭ (۴) : دائیں طرف سے پہلے بالوں کو کٹوائیں ۔
تفصیلی بحث کے لیے دیکھیں: فتح الباری (۱/۳۶۴)
سفید بالوں کے احکام:اس کی درج ذیل صورتیں ہیں:
۱۔ سفید بالوں کو اکھیڑنا ۲۔ سفید بالوں کو رنگ کرنا
۱۔ سفید بالوں کو اکھیڑنا حرام ہے ۔
عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''لاتنتفوا الشیب فإنہ نورالمسلم''۔ إلخ سفید بالوں کو نہ اکھیڑوکیونکہ بڑھاپا (بالوں کا سفید ہونا ) مسلمان کے لیے نور ہے جو شخص حالت اسلام میں بڑھاپے کی طرف قدم بڑھاتا ہے (جب کسی مسلمان کا ایک بال سفید ہوتا ہے ) تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتاہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔''
(أبو داود:۴۲۰۲وسندہ حسن،ابن عجلان صرح بالسماع) امام ترمذی (۲۸۲۱) نے اس حدیث کوحسن کہا ہے)
۲۔ سفید بالوں کو رنگنا ۔
بالوں کو رنگنا خضاب کہلاتاہے اور اس کی درج ذیل صورتیں اور قسمیں ہیں:
۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بالوں کو رنگنے کا حکم دیا ہے ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''غیروالشیب ولا تشبھوا بالیھود'' بڑھاپے (بالوں کی سفیدی ) کو (خضاب کے ذریعے) بد ل ڈالو اور (خضاب نہ لگانے میں) یہودیوں کی مشابہت نہ کرو۔
(الترمذی:۱۷۵۲وقال:''حسن صحیح وسندہ حسن)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہودی اور نصرانی (عیسائی) خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کے خلاف کر و ( تم خضاب لگاؤ)
(صحیح البخاری:۵۸۹۹،صحیح مسلم:۲۱۰۳)