الصفحة 149 من 228

تنبیہ:سنن أبي داود ( ۳۵۶ ) مستد رک الحاکم (۳/۵۷۰ ح ۶۴۲۸) اور المعجم الکبیر للطبراني (۱۹/۱۴ ح ۲۰) کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر مسلمان ہونے کے بعد سر کے بال منڈوائے گا ۔ یہ ساری روایات ضعیف و مردود ہیں اور انھیں حسن قرار دینا غلط ہے۔

بچوں کے بالوں کے احکام:

۱۔ جب بچہ سات دن کا ہوجائے تو ساتویں دن بچے کے سر کے بال منڈانے چاہئیں۔

(منتقیٰ ابن الجارود: ۹۱۰ وسندہ حسن ، روایۃ الحسن عن سمرۃ کتاب والإحتجاج بالکتاب صحیح والحمدللّٰه )

۲۔ جو بال ساتویں دن اتارے جائیں تو ان کے برابر وزن کرکے چاندی صدقہ کی جائے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقي ۹/ ۳۰۴ وسندہ حسن)

۳۔ بالوں کو تھوڑا سا چھوڑ کر باقی منڈوا دینا منع ہے ۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ''نھٰی رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم عن القزع'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری:۵۹۲۰،صحیح مسلم:۲۱۲۰)

قزع کی چار قسمیں ہیں:

۱۔ سر کے بال سارے نہ مونڈنا بلکہ جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے بادلوں کے طرح ،ٹکڑیوں میں مونڈنا ۔

۲۔ درمیان سے سر کے بال مونڈنا اور اطراف میں بال چھوڑ دینا ۔

۳۔ اطراف مونڈنا اور درمیان سے سر کے بال چھوڑدینا ۔

۴۔ آگے سے بال مونڈنا اور پیچھے سے چھوڑ دینا ۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''عدل وانصاف قائم کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی کما ل محبت

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت